اسلام آباد — پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں ایک اہم اور فیصلہ کن موڑ پر پارلیمانی جماعتوں پر مشتمل خصوصی پارلیمانی کمیٹی نے ہفتوں کے طویل اور اعصاب شکن مذاکرات کے بعد 26ویں آئینی ترمیم کے متفقہ مسودے پر باضابطہ اتفاقِ رائے حاصل کر لیا ہے۔ سید خورشید شاہ کی زیرِ صدارت ہونے والے حتمی مشاورتی اجلاس میں حکومتی اتحاد اور حزبِ اختلاف کی تمام اہم جماعتوں کے رہنماؤں نے تفصیلی غور و خوض کے بعد مجوزہ آئینی ترامیم کے حتمی متن کی توثیق کر دی ہے۔

آئینی عدالت کی جگہ آئینی بینچز کے قیام پر اتفاق

کمیٹی کے حتمی مسودے کے مطابق حکومت کی جانب سے ابتدائی طور پر تجویز کردہ الگ 'فیڈرل کانسٹی ٹیوشنل کورٹ' کے قیام کی شق کو واپس لے کر سپریم کورٹ آف پاکستان اور صوبائی ہائی کورٹس کے اندر ہی بااختیار 'آئینی بینچز' قائم کرنے کے فارمولے پر مکمل اتفاق ہو گیا ہے۔ ان آئینی بینچز میں صوبوں کی مساوی اور منصفانہ نمائندگی کو یقینی بنایا جائے گا اور آئینی تشریح سے متعلق تمام اہم اور پیچیدہ مقدمات کی سماعت کا دائرہ اختیار انہی بینچز کے سپرد ہو گا۔

چیف جسٹس کی تقرری: 12 رکنی خصوصی پارلیمانی کمیٹی کا قیام

متفقہ آئینی مسودے میں عدالتی قیادت کے تقرر کے حوالے سے ایک انقلابی اور باضابطہ نظام وضع کیا گیا ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان کی تقرری کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں (قومی اسمبلی اور سینیٹ) کے 12 اراکین پر مشتمل ایک خصوصی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔

یہ پارلیمانی کمیٹی سپریم کورٹ کے تین سینئر ترین ججز کے پینل میں سے دو تہائی اکثریت کے ساتھ نئے چیف جسٹس کا نام فائنل کر کے وزیر اعظم کو بھجوائے گی، جو اسے حتمی منظوری کے لیے صدرِ مملکت کو ارسال کریں گے۔ نئے ضابطے کے تحت چیف جسٹس کا دورِ ملازمت زیادہ سے زیادہ 3 سال مقرر کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

جوڈیشل کمیشن کی ازسرِنو تشکیل اور بنیادی حقوق کا تحفظ

ججز کی تقرری اور کارکردگی کی جانچ کے لیے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (جے سی پی) کی ہیئتِ ترکیبی کو جامع بناتے ہوئے چیف جسٹس، سینئر ججز، وفاقی وزیر قانون، اٹارنی جنرل اور پاکستان بار کونسل کے نمائندے کے ساتھ ساتھ پارلیمانی اراکین کو بھی کمیشن کا حصہ بنانے پر اتفاق ہوا ہے تاکہ عدالتی نظام میں شفافیت اور ادارہ جاتی توازن کو فروغ دیا جا سکے۔

اس کے علاوہ ترمیم میں دستور کے آرٹیکل 9 اے کے تحت شہریوں کے لیے صاف، شفاف اور پائیدار ماحول کو بنیادی آئینی حق تسلیم کرنے کی اہم شق بھی شامل کی گئی ہے۔ پارلیمانی سیاست، عدالتی اصلاحات اور قومی امور کی مستند اپ ڈیٹس کے لیے پاک پلس کی اردو سروس اور قومی خبریں ملاحظہ فرمائیں۔