اسلام آباد — پاکستان کے سیاسی اور پارلیمانی منظر نامے میں ایک تاریخی پیش رفت کے تحت وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت منعقدہ وفاقی کابینہ کے خصوصی اور ہنگامی اجلاس نے 26ویں آئینی ترمیم کے حتمی مسودے کی باضابطہ اور متفقہ منظوری دے دی ہے۔ کابینہ کی توثیق کے بعد اس تاریخی آئینی اصلاحاتی بل کو قانون سازی کے حتمی مراحل کے لیے سینیٹ آف پاکستان اور قومی اسمبلی کے ایوان میں پیش کرنے کی باضابطہ راہ ہموار ہو گئی ہے۔
وزیر اعظم کا بیان: عدالتی اصلاحات اور عوامی فلاح کا تاریخی سنگِ میل
وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم ملکی تاریخ میں شفافیت، آئین کی بالادستی اور فوری و سستے انصاف کی فراہمی کے لیے ایک انقلابی سنگِ میل ثابت ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ قانون سازی کسی فردِ واحد کے مفاد میں نہیں بلکہ ریاست، جمہوری اداروں کے استحکام اور عام سائلین کی سہولت کے لیے کی جا رہی ہے۔
وزیر اعظم نے اتحادی جماعتوں کے قائدین بالخصوص صدرِ مملکت آصف علی زرداری، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن اور وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا شکریہ ادا کیا جن کی انتھک سیاسی اور قانونی کاوشوں کے نتیجے میں تمام اسٹیک ہولڈرز کے مابین تاریخی اتفاقِ رائے ممکن ہوا۔
کابینہ سے منظور شدہ حتمی مسودے کے کلیدی نکات
وفاقی کابینہ کی جانب سے منظور کیے گئے مسودے میں خصوصی پارلیمانی کمیٹی کی تمام متفقہ سفارشات کو مکمل طور پر برقرار رکھا گیا ہے:
- آئینی بینچز کا قیام: سپریم کورٹ آف پاکستان اور تمام صوبائی ہائی کورٹس میں بااختیار آئینی بینچز تشکیل دیے جائیں گے جن کے ججز کا تقرر جوڈیشل کمیشن کرے گا اور ان میں تمام صوبوں کی منصفانہ نمائندگی کو یقینی بنایا جائے گا۔
- چیف جسٹس کی تقرری کا نیا فارمولا: چیف جسٹس آف پاکستان کی تعیناتی کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے 12 اراکین پر مشتمل خصوصی پارلیمانی کمیٹی قائم ہوگی جو سپریم کورٹ کے تین سینئر ترین ججز کے پینل میں سے دو تہائی اکثریت کے ساتھ چیف جسٹس کا انتخاب کرے گی۔
- چیف جسٹس کی مدتِ ملازمت: چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے کی مدت زیادہ سے زیادہ تین سال مقرر کی گئی ہے۔
- جوڈیشل کمیشن کی ازسرِنو تشکیل: ججز تقرری کے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (جے سی پی) کی ہیئت میں چیف جسٹس، سینئر ججز، وفاقی وزیر قانون اور اٹارنی جنرل کے ہمراہ پارلیمنٹ کے ارکان کو شامل کر کے ادارہ جاتی توازن قائم کیا گیا ہے۔
- بنیادی حقوق اور صاف ماحول: آئین کے آرٹیکل 9 اے کے تحت شہریوں کے لیے محفوظ اور پائیدار ماحول کو لازمی بنیادی آئینی حق قرار دیا گیا ہے۔
پارلیمانی منظوری کے لیے ایوانوں میں پیش رفت
کابینہ کی منظوری کے بعد وفاقی حکومت نے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت کے ساتھ ترامیم پاس کرانے کے لیے نمبر گیم اور آئینی تقاضوں کو مکمل کر لیا ہے۔ قومی سیاست اور پارلیمانی امور کی لمحہ بہ لمحہ باوثوق اپ ڈیٹس کے لیے پاک پلس کی اردو سروس اور قومی خبریں ملاحظہ فرمائیں۔