اسلام آباد — وفاقی حکومت نے ریاستی اداروں میں شفافیت اور آئینی تقاضوں کی پاسداری کے لیے غیر ملکی شہریت، غیر ملکی سفری دستاویزات اور گرین کارڈ کے حامل سرکاری افسران کے خلاف سخت اور فیصلہ کن تادیبی کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے تمام وفاقی وزارتوں، ڈویژنز اور صوبائی چیف سیکریٹریز کو حتمی مراسلہ جاری کرتے ہوئے سول سرونٹس کی دوہری شہریت کا جامع اور تصدیق شدہ ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔

سول سرونٹس فارن نیشنلٹی رولز 2026 کا نفاذ

حکومتی احکامات کے تحت اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے یکم جون 2026 کو نوٹیفائی کیے جانے والے 'سول سرونٹس (ڈسکلوژر اینڈ ریگولیشن آف فارن نیشنلٹی) رولز 2026' پر سختی سے عمل درآمد کرانے کی ہدایت کی ہے۔ رول 3 کے تحت تمام گریڈ کے افسران کے لیے لازمی قرار دیا گیا تھا کہ وہ 90 روز کے اندر اپنے، اپنی شریک حیات اور زیرِ کفالت اہل خانہ کے غیر ملکی پاسپورٹس، سفری دستاویزات یا شہریت کا باضابطہ حلف نامہ جمع کرائیں۔

مہلت ختم ہونے کے باوجود پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس (پی اے ایس)، پولیس سروس آف پاکستان (پی ایس پی)، سیکریٹریٹ گروپ اور دیگر اہم کیڈرز کے درجنوں بااثر افسران کی جانب سے تفصیلات فراہم نہ کرنے پر حکومت نے سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔

ای اینڈ ڈی رولز 2020 کے تحت مس کنڈکٹ اور برطرفی کی کارروائی

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے دفتر سے جاری کردہ پالیسی ہدایت نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ مقررہ وقت کے اندر حلف نامہ جمع نہ کرانا یا غلط و گمراہ کن معلومات فراہم کرنا قانون کے تحت سنگین بدعنوانی اور 'مس کنڈکٹ' تصور کیا جائے گا۔

ایسے تمام نادہندہ افسران کے خلاف 'سول سرونٹس (ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن) رولز 2020' کے تحت فوری باضابطہ انکوائری اور محکمانہ تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جس کے نتیجے میں تنزلی، قبل از وقت جبری ریٹائرمنٹ یا سروس سے مستقل برطرفی ہو سکتی ہے۔ حکومت نے باور کرایا ہے کہ حساس ریاستی عہدوں پر تعینات افسران کی وفاداری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انتظامی اصلاحات اور حکومتی پالیسیوں کی لمحہ بہ لمحہ اپ ڈیٹس کے لیے پاک پلس کی اردو سروس اور قومی خبریں ملاحظہ فرمائیں۔