اسلام آباد — وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے عازمینِ حج اور عمرہ زائرین کے لیے میننگوکوکل میننجائٹس اور انفلوئنزا ویکسین کی خریداری میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں، قوانین کی کھلی خلاف ورزیوں اور زائرین سے زائد رقوم وصول کرنے کے معاملے کا سخت ترین نوٹس لیتے ہوئے ایک اعلیٰ سطحی 5 رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ وزیر اعظم نے کمیٹی کو محض 48 گھنٹوں کے اندر تمام ریکارڈ کی جامع فرانزک چھان بین کر کے حتمی رپورٹ اور سفارشات پیش کرنے کی سخت ہدایت جاری کی ہے۔
اعلیٰ اختیاراتی انکوائری کمیٹی کا دائرہ کار اور اراکین
وزیراعظم آفس اور کابینہ ڈویژن سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق اس اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کے سربراہ سیکرٹری کابینہ ڈویژن کامران علی افضل ہوں گے۔ کمیٹی کے دیگر نمایاں اراکین میں ڈائریکٹر جنرل انٹیلی جنس بیورو (آئی بی)، چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ)، اٹارنی جنرل فار پاکستان کے دفتر کا نامزد نمائندہ اور منیجنگ ڈائریکٹر پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پیپرا) شامل ہیں، جو کمیٹی کے رکن کے ساتھ ساتھ بطور سیکرٹری بھی فرائض انجام دیں گے۔
کمیٹی کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) کے تحت ویکسین خریداری کے طریقہ کار، قانونی جواز اور متعلقہ حکام کی جانب سے دی گئی منظوریوں کے قانونی فریم ورک کی باریک بینی سے جانچ پڑتال کا اختیار سونپا گیا ہے۔
پیپرا رولز کی خلاف ورزیاں اور اضافی مالی بوجھ
ابتدائی سرکاری دستاویزات کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی اس امر کا تفصیلی جائزہ لے گی کہ آیا ویکسین فراہمی کے معاہدے میں پیپرا رولز کے مطابق شفاف ٹینڈرنگ، تقابلی بولیوں اور بولی دہندگان کی تکنیکی اہلیت کے قواعد پر عمل کیا گیا تھا یا نہیں۔ کمیٹی قیمتوں کے تعین، حکومت اور نجی شراکت دار کے مابین آمدن کی تقسیم کے معاہدے اور قومی خزانے پر پڑنے والے مالیاتی اثرات کا بھی کھوج لگائے گی۔
اس کے علاوہ یہ سنگین نکتہ بھی انکوائری کے دائرہ کار میں شامل ہے کہ عمرہ زائرین سے فی کس ویکسینیشن پیکیج کے نام پر مبینہ طور پر 4500 روپے وصول کیے جا رہے تھے، جبکہ اس امر کی بھی جانچ کی جائے گی کہ آیا سعودی وزارتِ حج و عمرہ کی جانب سے عمرہ زائرین کے لیے انفلوئنزا ویکسین واقعی لازمی قرار دی گئی تھی یا اسے غیر ضروری طور پر تجارتی منافع کے لیے زائرین پر مسلط کیا گیا۔
شفافیت اور عدالتی چارہ جوئی
واضح رہے کہ ویکسین کی فراہمی کے ٹھیکے اور اس سے جڑے انتظامی امور پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی قانونی چارہ جوئی زیرِ سماعت رہی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے واضح ہدایت کی ہے کہ مقدسات کے سفر پر جانے والے عازمین کے حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور بدعنوانی یا اختیارات کے ناجائز استعمال میں ملوث افسران اور نجی افراد کے خلاف سخت ترین قانونی و تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ قومی احتساب اور طرزِ حکمرانی کی معتبر رپورٹس کے لیے پاک پلس کی اردو سروس اور قومی خبریں وزٹ کریں۔