Web Desk, Islamabad
پاکستان میں سیاسی احتجاج، لانگ مارچ، دھرنوں اور حکومتی رٹ پر جاری بحث کے دوران سیاسی و سماجی تجزیہ کار خواجہ اشرف نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ملک کو اب مسلسل احتجاجی سیاست کے دائرے سے نکل کر ایسے نظام کی طرف بڑھنا چاہیے جہاں سیاسی اور قانونی تنازعات کا بروقت حل ممکن ہو۔
پاکستان پلس کے X Space میں “PTI مارچ بمقابلہ حکومتی رٹ — کیا 27 ستمبر ٹرننگ پوائنٹ ہوگا؟” کے موضوع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے خواجہ اشرف نے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان طویل عرصے سے جلسوں، دھرنوں اور لانگ مارچ کی سیاست دیکھ رہا ہے، لیکن پائیدار سیاسی استحکام کے لیے اس طرزِ سیاست سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔
ان کی رائے میں سیاسی جماعتوں، حکومت اور ریاستی اداروں کے درمیان اختلافات اپنی جگہ موجود رہ سکتے ہیں، تاہم ہر سیاسی بحران کو سڑکوں پر لانے کے بجائے پارلیمنٹ، عدالتوں اور مذاکرات جیسے آئینی راستوں کو زیادہ مؤثر بنایا جانا چاہیے۔
انصاف میں تاخیر سیاسی بے چینی کو بڑھاتی ہے
خواجہ اشرف کی گفتگو کا ایک اہم نکتہ پاکستان کے نظامِ انصاف سے متعلق تھا۔ ان کے مطابق اگر شہریوں اور سیاسی جماعتوں کو قانونی معاملات میں بروقت فیصلے ملیں تو بہت سے تنازعات طویل سیاسی محاذ آرائی میں تبدیل ہونے سے روکے جا سکتے ہیں۔
پاکستان میں مقدمات کے طویل عرصے تک زیر التوا رہنے اور اہم سیاسی مقدمات کے گرد پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال اکثر سیاسی تناؤ میں اضافہ کرتی ہے۔ ایسے ماحول میں کسی بھی عدالتی فیصلے یا تاخیر کو سیاسی زاویے سے دیکھا جانے لگتا ہے۔
اس مسئلے کا حل عدلیہ پر سیاسی دباؤ بڑھانا نہیں بلکہ ایسا مؤثر عدالتی نظام بنانا ہے جہاں مقدمات قانون کے مطابق، شفاف انداز میں اور مناسب مدت کے اندر نمٹائے جا سکیں۔
احتجاج کا حق اور ریاستی رٹ
پاکستان کی سیاست میں احتجاج ہمیشہ سے ایک اہم ذریعہ رہا ہے اور آئین پُرامن اجتماع اور اظہارِ رائے کے حقوق فراہم کرتا ہے۔ دوسری جانب حکومت کی ذمہ داری امن و امان برقرار رکھنا اور شہری زندگی کو متاثر ہونے سے بچانا بھی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں سیاسی جماعتوں اور ریاست کے درمیان ٹکراؤ پیدا ہوتا ہے۔
اگر حکومت احتجاج کو صرف طاقت کے ذریعے روکنے کی کوشش کرے یا سیاسی جماعتیں ہر اختلاف کا حل دارالحکومت کی طرف مارچ میں تلاش کریں تو سیاسی بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔
اس لیے احتجاج کے حق اور ریاستی رٹ کے درمیان ایسا توازن ضروری ہے جس میں نہ سیاسی آواز کو غیر ضروری طور پر دبایا جائے اور نہ ہی احتجاج عام شہریوں، کاروبار اور ریاستی نظام کو مسلسل مفلوج کرنے کا ذریعہ بنے۔
سیاسی مسائل کا مستقل حل مذاکرات میں
خواجہ اشرف کے مؤقف کا بنیادی پہلو یہ ہے کہ پاکستان کو سیاسی تنازعات حل کرنے کے لیے ایک زیادہ پختہ سیاسی کلچر کی ضرورت ہے۔
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافات جمہوری نظام کا معمول ہیں۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب اختلاف مکمل سیاسی تصادم میں تبدیل ہو جائے اور دونوں فریق ایک دوسرے سے بات کرنے کی گنجائش ختم کر دیں۔
مذاکرات کا مطلب کسی فریق کا اپنے سیاسی مؤقف سے دستبردار ہونا نہیں ہوتا۔ مذاکرات کا مقصد کم از کم ایسے اصول طے کرنا ہوتا ہے جن کے تحت سیاسی مقابلہ جاری رہے لیکن ریاستی نظام متاثر نہ ہو۔
انتخابات، سیاسی گرفتاریوں، عدالتی مقدمات، احتجاج کے طریقۂ کار اور پارلیمانی معاملات جیسے موضوعات پر اگر سیاسی قوتیں بنیادی اصولوں پر اتفاق کر سکیں تو ہر چند ماہ بعد پیدا ہونے والے سیاسی بحرانوں کی شدت کم کی جا سکتی ہے۔
پاکستان کو احتجاج سے اداروں کی طرف جانا ہوگا
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں لانگ مارچ اور دھرنے کسی ایک سیاسی جماعت تک محدود نہیں رہے۔ مختلف ادوار میں تقریباً تمام بڑی سیاسی قوتوں نے سڑکوں پر احتجاج کو اپنے مطالبات منوانے کے لیے استعمال کیا ہے۔
لیکن ایک مضبوط جمہوری نظام کی پہچان یہ نہیں کہ کون سی جماعت زیادہ بڑا دھرنا دے سکتی ہے۔ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب سیاسی اختلافات کا فیصلہ مضبوط پارلیمنٹ، آزاد اور تیز رفتار عدالتی نظام، شفاف انتخابات اور مؤثر مذاکرات کے ذریعے ہونے لگے۔
خواجہ اشرف کی گفتگو اسی بنیادی سوال کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ پاکستان کب ایسی سیاسی فضا کی طرف بڑھے گا جہاں کسی بڑے اختلاف کے بعد پہلا راستہ لانگ مارچ نہیں بلکہ آئینی ادارے ہوں۔
27 ستمبر سیاسی طور پر اہم ثابت ہوتا ہے یا نہیں، اس سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اپنی سیاست کو مسلسل تصادم کے ماڈل سے نکال کر مذاکرات، قانون اور بروقت انصاف کے ماڈل کی طرف لے جا سکتا ہے۔