خضدار — بلوچستان کے ضلع خضدار میں امن و امان کے قیام اور کالعدم عسکریت پسند گروہوں کے نیٹ ورکس کو توڑنے کے لیے سیکیورٹی فورسز نے ایک بڑی اور کامیاب کارروائی انجام دی ہے۔ پولیس اور فرنٹیئر کور (ایف سی) کے مشترکہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران کرخ کے دور افتادہ پہاڑی علاقے میں 5 دہشت گرد ہلاک ہو گئے ہیں، جبکہ ان کی کمین گاہ سے خودکار ہتھیار، گولہ بارود اور مواصلاتی آلات برآمد کر لیے گئے ہیں۔
کرخ میں انٹیلی جنس بیسڈ جوائنٹ آپریشن کی تفصیلات
صوبائی انتظامیہ اور سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حساس اداروں کی جانب سے مصدقہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ کالعدم دہشت گرد تنظیم سے تعلق رکھنے والے شرپسند عناصر کرخ کے پہاڑی نالوں اور غاروں میں چھپے ہوئے ہیں اور قومی شاہراہوں و سیکیورٹی تنصیبات پر بڑے حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
انٹیلی جنس رپورٹ کی تصدیق کے بعد پولیس اور ایف سی کے چاک و چوبند دستوں نے علاقے کو مکمل گھیرے میں لے کر ٹارگٹڈ سرچ آپریشن شروع کیا۔ سیکیورٹی فورسز کی پیش قدمی پر دہشت گردوں نے خودکار ہتھیاروں سے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی اور فرار ہونے کی کوشش کی۔ فورسز نے پیشہ ورانہ حکمت عملی اپناتے ہوئے جوابی کارروائی کی جس کے نتیجے میں فائرنگ کے شدید تبادلے کے بعد تمام 5 دہشت گرد موقع پر ہی مارے گئے۔
حالیہ بدامنی اور اغوا برائے تاوان کی وارداتوں کا پس منظر
یہ کامیاب آپریشن خضدار اور اس سے ملحقہ اضلاع میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات اور اغوا کی وارداتوں کے فوری بعد سامنے آیا ہے۔ چند روز قبل خضدار کی ایک ماربل مائننگ سائٹ پر مسلح افراد نے حملہ کر کے مقامی مزدوروں اور ٹرک ڈرائیوروں کو اغوا کرنے کی کوشش کی تھی، جبکہ ضلع کے مختلف علاقوں میں پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے واقعات بھی رونما ہوئے تھے۔
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ مارے جانے والے دہشت گرد متعدد تخریبی سرگرمیوں، ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان کے سنگین مقدمات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب تھے۔ فورسز نے ہلاک شرپسندوں کے قبضے سے کلاشنکوفیں، راکٹ لانچرز، آئی ای ڈیز (دیسی ساختہ بم) اور بڑی مقدار میں گولیاں برآمد کر کے ان کی پناہ گاہوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔
حکومتی ردعمل اور امن و امان کے استحکام کا عزم
حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند نے کامیاب آپریشن پر پولیس اور فرنٹیئر کور کے بہادر جوانوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں معصوم شہریوں اور معاشی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے ملک دشمن عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی نافذ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دشمن قوتوں کی جانب سے بلوچستان کے امن کو سبوتاژ کرنے کی ہر سازش کو آہنی ہاتھوں سے کچلا جائے گا۔
سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں امن کی بحالی اور ممکنہ سہولت کاروں کے خاتمے کے لیے سرچ آپریشن کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ہے، جبکہ مقامی قبائلی عمائدین نے بھی فورسز کے اقدامات کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔ بلوچستان کی تازہ ترین سیکیورٹی صورتحال اور قومی پیش رفت سے باخبر رہنے کے لیے پاک پلس کی اردو سروس اور قومی خبریں ملاحظہ فرمائیں۔