خیبر پختونخوا میں وفاقی حکومت کی جانب سے ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج کے فیصلے کو پشاور ہائیکورٹ میں آئینی طور پر چیلنج کر دیا گیا ہے۔ درخواست میں وفاقی کابینہ کے فیصلے اور صدر مملکت کے جاری کردہ اعلامیے کو آئین کے بنیادی ڈھانچے اور صوبائی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کالعدم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

پشاور ہائیکورٹ میں دائر کی گئی آئینی پٹیشن میں صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیر اعظم شہباز شریف اور گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست گزار وکلا نے موقف اختیار کیا کہ آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت حاصل اختیارات کا غیر قانونی استعمال کرتے ہوئے ایک منتخب صوبائی اسمبلی اور آئینی حکومت کو غیر جمہوری انداز میں مفلوج کیا گیا۔

منتخب حکومت کی معطلی آئین پر حملہ قرار

تحریک انصاف کی قانونی ٹیم اور وکلا رہنماؤں نے عدالت کے روبرو دائر پٹیشن میں موقف اپنایا کہ صوبے میں کوئی ایسا آئینی بحران پیدا نہیں ہوا تھا جس کے تحت گورنر راج نافذ کیا جاتا۔ درخواست میں کہا گیا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور صوبائی کابینہ کو سکیورٹی کے مبینہ بہانے بنا کر حراست میں لینا سیاسی انتقام ہے جس کی آئین میں کوئی گنجائش موجود نہیں۔

درخواست میں عدالت عالیہ سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ وفاقی حکومت کے نوٹیفکیشن کو معطل کرتے ہوئے صوبائی حکومت کے تمام اختیارات بحال کرنے کا حکم جاری کرے، جبکہ اس دوران نگران ایڈوائزری کونسل یا نامزد چیف سیکریٹری کو کسی بھی غیر آئینی انتظامی اقدام سے روکا جائے۔

وفاقی حکومت کا موقف اور سکیورٹی حالات

دوسری جانب وفاقی وزرا کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف قومی حکمت عملی پر عملدرآمد تعطل کا شکار تھا اور صوبائی انتظامیہ کی جانب سے ریاستی اداروں کے ساتھ عدم تعاون کے باعث ہنگامی اقدامات ناگزیر ہو چکے تھے۔ وفاقی حکومت کے مطابق صوبے میں امن و امان کی بحالی اور سرکاری تنصیبات کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔

پشاور ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس نے درخواست کی ابتدائی جانچ پڑتال شروع کر دی ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ اس اہم آئینی معاملے کی سماعت کے لیے خصوصی بینچ تشکیل دیں گے، جس پر ملک بھر کے سیاسی اور قانونی حلقوں کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔ مزید معلومات کے لیے پاک پلس 247 کی قومی خبریں کا سیکشن ملاحظہ کریں۔