لاہور — صوبائی دارالحکومت لاہور میں موسمِ سرما کے آغاز سے قبل فضائی آلودگی کی شدت ایک بار پھر خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں مجموعی ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) 150 سے 300 کے درمیان ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں نمایاں ہو گیا ہے۔ فضائی معیار کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیشِ نظر حکومت پنجاب نے سموگ کے تدارک کے لیے ہنگامی اور پیشگی کریک ڈاؤن کا دائرہ کار وسیع کر دیا ہے۔

شاہراہوں اور صنعتی زونز میں آلودگی کے خطرناک ریکارڈز

ماحولیاتی تحفظ کے محکمے (ای پی ڈی) اور نجی فضائی مانیٹرنگ اسٹیشنز کے مطابق لاہور کے گنجان آباد علاقوں بالخصوص مال روڈ، گلبرگ، برکی روڈ، شاہدرہ اور ملتان روڈ پر پی ایم 2.5 کی سطح صحت کے لیے انتہائی مضر حد تک پہنچ چکی ہے۔ کم ہوا کی رفتار (تقریباً 3 کلومیٹر فی گھنٹہ) اور کم درجہ حرارت کے امتزاج نے گاڑیوں کے دھوئیں، صنعتی اخراج اور تعمیراتی گرد کو فضا کے نچلے حصے میں قید کر دیا ہے، جس کے باعث شہریوں میں گلے، آنکھوں میں جلن اور سانس کی شکایات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

ڈرون اسکواڈز اور ہاک آئی نائٹ آپریشنز متحرک

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی سخت ترین ہدایات پر محکمہ ماحولیات اور ضلعی انتظامیہ نے انسدادِ سموگ مہم کے تحت جدید ٹیکنالوجی کا استعمال شروع کر دیا ہے۔ خلاف ورزی کرنے والوں کی نشاندہی کے لیے ڈرون اسکواڈز فضا سے نگرانی کر رہے ہیں جبکہ رات کے اوقات میں صنعتی اخراج چھپانے والوں کو پکڑنے کے لیے خصوصی نائٹ اسکواڈز اور 'ہاک آئی' فیلڈ ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں۔

ابتدائی کارروائیوں کے دوران ماحولیاتی بائی لاز کی خلاف ورزی اور بغیر فلٹرز چلنے والی درجنوں صنعتی فیکٹریوں کو موقع پر سیل کر دیا گیا ہے اور لاکھوں روپے کے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔

اینٹوں کے بھٹوں اور زرعی پرالی پر سخت پابندیاں

حکومتی احکامات کے تحت روایتی اور بغیر زگ زیگ ٹیکنالوجی کے چلنے والے تمام اینٹوں کے بھٹوں کو فوری طور پر گرانے اور مسمار کرنے کا عمل جاری ہے۔ اس کے علاوہ کمرشل کچنز، ریسٹورنٹس اور باربی کیو ہوٹلوں پر دھواں روکنے والے سکشن ہڈز (Suction Hoods) کی تنصیب لازمی قرار دی گئی ہے۔

کسانوں کی جانب سے فصلوں کی باقیات (پرالی) کو آگ لگانے سے روکنے کے لیے محکمہ زراعت جدید 'سپر سیڈرز' اور بیلرز رعایتی نرخوں پر فراہم کر رہا ہے جبکہ شاہراہوں پر گردوغبار بٹھانے کے لیے خصوصی اینٹی سموگ واٹر اسپرنکلرز مسلسل پانی کا چھڑکاؤ کر رہے ہیں۔ ماحولیاتی اور شہری مسائل کی جامع رپورٹنگ کے لیے پاک پلس کی اردو سروس اور قومی خبریں وزٹ کریں۔