اسلام آباد: پاکستان نے افغان عبوری حکومت کو دوٹوک اور واضح پیغام دیتے ہوئے باور کرایا ہے کہ سرحد پار دہشتگردی کے مسلسل خطرات اور حملوں کے سائے میں دونوں ممالک کے مابین معمول کی دوطرفہ اور ٹرانزٹ تجارت کو آگے بڑھانا ناممکن ہو چکا ہے۔ اسلام آباد میں سفارتی اور سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، جب تک کابل انتظامیہ اپنی سرزمین سے سرگرم کالعدم دہشتگرد گروہوں کے خلاف ٹھوس، قابل تصدیق اور موثر کارروائی نہیں کرتی، بارڈر ٹریڈ اور کسٹمز راہداریوں کی بلا رکاوٹ سرگرمیاں بحال رکھنا ایک بڑا سیکیورٹی چیلنج رہے گا۔
طورخم اور چمن بارڈر پر سخت سیکیورٹی پروٹوکولز
سیکیورٹی حکام کے مطابق خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سرحد پار سے ہونے والے حالیہ بزدلانہ حملوں کے بعد طورخم، چمن، خرلاچی اور غلام خان کے اہم بارڈر ٹرمینلز پر کسٹم کلیئرنس اور مال بردار گاڑیوں کی جانچ پڑتال کے قواعد و ضوابط مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔ سرحد پار نقل و حمل کے لیے 'ون ڈاکیومنٹ رجیم' (پاسپورٹ اور ویزا لازمی شرط) پر سختی سے عملدرآمد جاری ہے تاکہ اسمگلنگ، غیر قانونی داخلے اور شرپسند عناصر کی نقل و حرکت کا مکمل سدباب کیا جا سکے۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ تجارتی سہولت کاری سیکیورٹی خودمختاری کی قیمت پر نہیں کی جا سکتی۔ پاکستان نے ہمیشہ خطے کے معاشی استحکام اور وسطی ایشیائی ریاستوں تک تجارتی رابطوں کے فروغ کی حمایت کی ہے، تاہم قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
افغان سرزمین کے دہشتگردی کے لیے استعمال پر شدید تحفظات
وزارت خارجہ اور سیکیورٹی اداروں نے بارہا باضابطہ سفارتی ذرائع سے افغان طالبان حکومت کے سامنے یہ معاملہ اٹھایا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر فتنہ الخوارج کے گروہ افغانستان کے اندر محفوظ پناہ گاہیں قائم کیے ہوئے ہیں جہاں سے وہ پاکستانی چیک پوسٹوں اور بے گناہ شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ سرحد پر امن و امان کا قیام اور دہشتگرد پناہ گاہوں کا خاتمہ ہی تجارتی حجم میں اضافے اور پاک افغان برادرانہ تعلقات کو مستحکم کرنے کا واحد پائیدار راستہ ہے۔
تجارتی برادری اور آئندہ کی حکمت عملی
دونوں اطراف کی تجارتی برادری اور چیمبرز آف کامرس نے کشیدگی میں کمی اور بات چیت کے ذریعے مسائل کے حل پر زور دیا ہے، تاہم پاکستانی حکام کا اصرار ہے کہ سیکیورٹی کو اقتصادی مذاکرات سے الگ نہیں دیکھا جا سکتا۔ جب تک افغانستان عملی سطح پر اپنی سرزمین سے پاکستان کے خلاف سرگرمیوں کو روکنے کے وعدے پورے نہیں کرتا، پاکستان اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لیے تمام تر قانونی اور حفاظتی اقدامات جاری رکھے گا۔ مزید تفصیلات اور علاقائی سیکیورٹی امور کے لیے پاک پلس 247 کی خصوصی کوریج ملاحظہ فرمائیں۔