بینکاک / اسلام آباد — پاکستان نے عالمی مالیاتی میدان میں ایک تاریخی اور باوقار سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک میں منعقدہ ورلڈ بینک گروپ اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے سالانہ اجلاس 2026 کے دوران پاکستان کو سال 2027 کے لیے دونوں عالمی مالیاتی اداروں کے بورڈز آف گورنرز کی چیئرمین شپ تفویض کر دی گئی ہے۔
پاکستان کو 1953 کے بعد 74 سال کے طویل وقفے کے بعد پہلی بار اس اعلیٰ عالمی معاشی پلیٹ فارم کی سربراہی کا اعزاز حاصل ہوا ہے، جسے بین الاقوامی مالیاتی پالیسی سازی میں ملک کے بڑھتے ہوئے سفارتی اثر و رسوخ کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر احد خان چیمہ کا خطاب اور عہدے کی قبولیت
بینکاک میں منعقدہ پروقار تقریب کے دوران پاکستان کے وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد خان چیمہ نے 2027 کے لیے بورڈز آف گورنرز کی چیئرمین شپ کی باضابطہ نامزدگی قبول کی۔ وفاقی وزیر نے رکن ممالک اور بورڈز آف گورنرز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات سے دوچار ترقی پذیر ممالک، قرضوں کے بوجھ تلے دبے ممالک اور عالمی مالیاتی اصلاحات کے ایجنڈے کو بین الاقوامی سطح پر مؤثر انداز میں اجاگر کرے گا۔
احد خان چیمہ نے واضح کیا کہ 2027 کی چیئرمین شپ پاکستان کو گلوبل ساؤتھ کی معاشی ترجیحات، آسان شرائط پر کثیر الجہتی فنانسنگ، اور عالمی تجارتی رکاوٹوں کے خاتمے کے لیے جامع مکالمہ قائم کرنے کا تاریخی موقع فراہم کرے گی۔
اسلامی ترقیاتی بینک کے ساتھ اربوں ڈالر کے معاہدوں پر پیشرفت
سالانہ اجلاس کی سائیڈ لائنز پر پاکستانی وفد نے اسلامی ترقیاتی بینک (آئی ایس ڈی بی) کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ تفصیلی مشاورت کی۔ وفاقی وزیر اقتصادی امور نے اسلامی ترقیاتی بینک کے صدر پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے لیے طے شدہ کثیر الجہتی اشاراتی فنانسنگ فریم ورک کو جلد ٹھوس اور فنڈڈ پروجیکٹ پائپ لائنز میں تبدیل کریں، جن میں توانائی، مواصلات، زراعت اور انفراسٹرکچر کے تزویراتی منصوبے شامل ہیں۔
معاشی ماہرین کے مطابق آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے بورڈز آف گورنرز کی صدارت حاصل ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان نے بیرونی مالیاتی نظم و ضبط اور کثیر الجہتی مذاکرات میں بین الاقوامی برادری کا اعتماد بحال کیا ہے۔ ملکی و بین الاقوامی معاشی تجزیوں اور خبروں کے لیے پاک پلس کی اردو سروس اور قومی خبریں ملاحظہ کریں۔