اسلام آباد: وفاقی حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی باضابطہ کلیئرنس کے بعد ملک کی نئی 5 سالہ آٹو انڈسٹری ڈویلپمنٹ پالیسی (2026 تا 2031) کا حتمی مسودہ تیار کر لیا ہے۔ اس تاریخی پالیسی کا بنیادی مقصد پاکستان کی آٹو مارکیٹ کو روایتی تحفظاتی نظام سے نکال کر برآمدات پر مبنی اور مسابقتی بنانا ہے۔ نئی پالیسی کے تحت آئندہ پانچ برسوں میں گاڑیوں کے اسپیئر پارٹس اور مکمل گاڑیوں کی برآمد کے لیے 6 ارب ڈالر کا مجموعی ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
درآمدی ٹیرف میں کمی اور گاڑیوں کی قیمتوں میں ریلیف
پالیسی مسودے کے مطابق گاڑیوں کی تیاری کے خام مال، پارٹس اور اسمبلنگ کٹس پر کسٹم ڈیوٹیز اور درآمدی ٹیرف میں مرحلہ وار کمی کا جامع فریم ورک وضع کیا گیا ہے۔ پیداواری لاگت میں کمی کے ذریعے عام صارفین کے لیے چھوٹی اور درمیانی درجے کی گاڑیوں کی قیمتوں کو کنٹرول کیا جائے گا۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ مقامی سطح پر پرزہ جات تیار کرنے اور برآمدی اہداف حاصل کرنے والی آٹو کمپنیوں کو ڈیوٹی ڈرا بیک اور 10 فیصد اضافی برآمدی مراعات دی جائیں گی، جبکہ اہداف حاصل نہ کرنے والے مینوفیکچررز پر جرمانے عائد ہوں گے۔
آن منی کا خاتمہ اور 20 فیصد ایڈوانس بکنگ کی حد
صارفین کے حقوق کے تحفظ اور گاڑیوں کی خریداری میں بلیک مارکیٹ و ناجائز پریمیم (آن منی) کے مستقل خاتمے کے لیے ایک انتہائی اہم شرط نافذ کر دی گئی ہے۔ نئی پالیسی کے تحت کار ساز کمپنیوں اور ڈیلرز پر سخت پابندی عائد کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی گاڑی کی بکنگ کے وقت گاڑی کی کل قیمت کے 20 فیصد سے زائد ایڈوانس رقم وصول نہیں کر سکتے۔ بروقت ڈیلیوری نہ دینے کی صورت میں خریدار کو لازمی ہرجانہ ادا کیا جائے گا۔
الیکٹرک وہیکلز کے لیے ٹیکس رعایت اور سستے قرضے
ماحولیاتی تحفظ اور ایندھن کے اخراجات میں کمی کے پیش نظر نئی پالیسی میں الیکٹرک وہیکلز (EVs) کے فروغ کے لیے خصوصی ریلیف کا اعلان کیا گیا ہے۔ مکمل الیکٹرک گاڑیوں پر جنرل سیلز ٹیکس (GST) کو کم کر کے صرف 1 فیصد مقرر کیا جا رہا ہے، جبکہ 1000 سی سی یا اس سے کم انجن کی روایتی گاڑیوں کو آٹوموٹو ڈیولپمنٹ لیوی سے مکمل چھوٹ دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تحت الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری کے لیے آٹو فنانسنگ کی حد 20 لاکھ سے بڑھا کر 1 کروڑ روپے تک کرنے اور ادائیگی کی مدت 5 سال تک بڑھانے کی منظوری دی گئی ہے۔
اقوام متحدہ کے بین الاقوامی سیفٹی معیارات کا نفاذ
پاکستانی سڑکوں پر چلنے والی گاڑیوں کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے اقوام متحدہ کے ڈبلیو پی 29 فریم ورک کے تحت 45 لازمی سیفٹی معیارات کو مقامی سطح پر نافذ کیا جا رہا ہے۔ وفاقی کابینہ کی حتمی منظوری کے بعد اس پالیسی کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا جائے گا۔ مزید تفصیلات اور تازہ ترین معاشی کوریج کے لیے پاک پلس 247 نیوز ڈیسک ملاحظہ فرمائیں۔