نیویارک: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی چوتھی کمیٹی (اسپیشل پولیٹیکل اینڈ ڈی کالونائزیشن) کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں پاکستان نے دنیا بھر میں اقوام متحدہ کے امن مشنز (UN Peacekeeping Operations) کو درپیش پیچیدہ سیکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں جامع اسٹریٹجک اور انتظامی اصلاحات کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ پاکستانی مندوبین نے واضح کیا کہ عالمی تنازعات کے دوران قیام امن کے لیے تعینات بلیو ہیلمٹس (امن دستوں) کے بجٹ اور آپریشنل وسائل میں کمی کا کوئی بھی اقدام نہ صرف امن مشنز کے مینڈیٹ کو کمزور کرے گا بلکہ زمینی سطح پر نہتے شہریوں اور امن اہلکاروں کی جانوں کو شدید خطرات سے دوچار کر دے گا۔

1 لاکھ 70 ہزار سے زائد پاکستانی اہلکاروں کی خدمات

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن نے جنرل اسمبلی کو یاد دلایا کہ پاکستان 1960 کی دہائی سے اقوام متحدہ کے امن مشنز میں صف اول کا دستہ رہا ہے۔ پاکستان نے اب تک دنیا کے 29 سے زائد ممالک میں 46 مختلف مشنز کے تحت 1 لاکھ 70 ہزار سے زائد بہادر فوجی، پولیس اور سول اہلکار تعینات کیے ہیں، جبکہ فرائض کی انجام دہی کے دوران 180 سے زائد پاکستانی جانبازوں نے عالمی امن کے لیے جام شہادت نوش کیا۔

پاکستانی مندوب نے زور دیا کہ پاکستانی امن دستوں نے افریقہ، ایشیا اور بلقان سمیت دنیا کے انتہائی حساس اور پرتشدد خطوں میں معصوم شہریوں کے تحفظ، انسانی ہمدردی کے کاموں کی حفاظت اور سیز فائر معاہدوں کے نفاذ میں بے مثال پیشہ ورانہ مہارت اور جرات کا مظاہرہ کیا ہے۔

بجٹ کٹوتیوں کے منفی اثرات پر گہری تشویش

اجلاس کے دوران پاکستان نے رکن ممالک کے مابین امن مشنز کے مالی وسائل میں کمی کی تجاویز پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ پاکستانی بیان میں کہا گیا کہ بغیر جامع سیاسی عمل، واضح مینڈیٹ اور جدید لاجسٹکس و انٹیلی جنس سپورٹ کے امن دستوں کو جنگ زدہ علاقوں میں تنہا چھوڑنا ان کی جانوں سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ پاکستان نے مطالبہ کیا کہ امن دستے فراہم کرنے والے ممالک (TCCs) کو سلامتی کونسل کے فیصلوں اور مشنز کی منصوبہ بندی میں باقاعدہ اور بااختیار مشاورت دی جائے۔

سیاسی حل اور مستقل امن کی ضرورت

پاکستان نے عالمی برادری پر واضح کیا کہ امن مشنز کسی بھی مسئلے کا متبادل نہیں ہو سکتے بلکہ وہ محض ایک سازگار ماحول فراہم کرتے ہیں۔ تنازعات کا حتمی اور دیرپا حل اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق منصفانہ سیاسی مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ مزید بین الاقوامی اور سفارتی کوریج کے لیے پاک پلس 247 نیوز ڈیسک ملاحظہ فرمائیں۔