اسلام آباد — پاکستان کے دفتر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ سعودی عرب میں پاکستانی مسلح افواج کی خاطر خواہ نفری اور دفاعی وسائل موجود ہیں، جو دہائیوں پر محیط دوطرفہ سکیورٹی معاہدوں اور اگست 2026 میں طے پانے والے سہ فریقی مکہ دفاعی اتحاد کے فریم ورک کے تحت خدمات انجام دے رہے ہیں۔ دفتر خارجہ نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ ان فورسز کا مینڈیٹ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے اور وہ سعودی سرحدوں سے باہر کسی جارحانہ کارروائی کا حصہ نہیں بنیں گی۔
دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان برادرانہ اسٹریٹجک تعلقات دہائیوں پر محیط ہیں اور دونوں ممالک سلامتی کے امور پر قریبی شراکت دار ہیں۔
مکہ دفاعی اتحاد اور اسٹریٹجک کمیٹی کا ہنگامی اجلاس
ترجمان دفتر خارجہ کا یہ بیان ریاض میں مکہ دفاعی اتحاد کی اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی کے اس اہم اجلاس کے بعد سامنے آیا ہے جس میں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے شرکت کی تھی۔
اجلاس میں خطے کی موجودہ سکیورٹی صورتحال اور سعودی عرب کی اہم تنصیبات پر حوثی ڈرون و میزائل حملوں کے بعد مشترکہ دفاعی لائحہ عمل پر تفصیلی مشاورت کی گئی تھی۔ اتحاد نے پاکستان کے لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) نعمان محمود کو تین سالہ مدت کے لیے مکہ دفاعی اتحاد کا پہلا سیکرٹری جنرل مقرر کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔
فورسز کا کردار خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے
دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے بریفنگ میں اس امر کی دوٹوک وضاحت کی کہ سعودی عرب میں تعینات پاکستانی فورسز مملکت کی علاقائی سالمیت، خودمختاری اور مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے مامور ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ یہ فورسز دوسرے فریق کے خلاف سرحد عبور کر کے حوثیوں یا کسی دوسرے گروہ پر حملہ آور ہونے کے لیے استعمال نہیں ہوں گی، بلکہ ان کا کردار سعودی عرب کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا اور فضائی و زمینی تحفظ فراہم کرنا ہے۔
خطے میں امن و استحکام کی سفارتی کوششیں
ڈی جی آئی ایس پی آر اور عسکری قیادت نے بھی اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں تنازعات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ایک مخلص ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے اور کسی بھی صورت خطے میں وسیع تر تصادم کا حامی نہیں۔ پاکستان خطے کے تمام برادر اسلامی ممالک کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے اور سفارتی ذرائع سے امن کے قیام پر زور دیتا ہے۔
پاکستان کی اہم ترین خبروں اور بین الاقوامی سفارتی امور کے تجزیات کے لیے پاک پلس کی اردو سروس اور قومی خبریں سیکشن ملاحظہ کریں۔