اسلام آباد / تہران — مشرقِ وسطیٰ اور مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی عسکری و سیاسی کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے مابین اعلیٰ سطحی اور تفصیلی ٹیلیفونک سفارتی مشاورت ہوئی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے خطے کی تازہ ترین سیکیورٹی صورتحال، تنازعات کے سفارتی حل اور برادرانہ دوطرفہ تعاون کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے۔

کشیدگی کے خاتمے کے لیے مذاکرات اور فعال سفارت کاری پر زور

دفتر خارجہ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے مشرقِ وسطیٰ میں بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال اور شہریوں کو درپیش خطرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی برادری اور خطے کے اہم ممالک کو کشیدگی کو وسیع تر جنگ میں بدلنے سے روکنے کے لیے فوری اور سنجیدہ سفارتی اقدامات اٹھانے چاہئیں۔

اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ پاکستان تمام علاقائی مسائل کا پرامن حل مذاکرات، مشاورت اور بین الاقوامی قوانین و اصولوں کی پاسداری میں دیکھتا ہے، اور تصادم کے بجائے سفارتی ذرائع کو ترجیح دی جانی چاہیے۔

او آئی سی فورم اور کثیر الجہتی کوآرڈینیشن

گفتگو کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے بغداد میں منعقد ہونے والے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے کونسل آف فارن منسٹرز (سی ایف ایم) کے اجلاس اور اس کے فیصلوں کے تناظر میں مسلم امہ کے مشترکہ مؤقف پر بھی بات چیت کی۔ دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ مسلم دنیا کو علاقائی خودمختاری، امن کے فروغ اور سیز فائر کی کوششوں میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔

ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے پاکستان کے اصولی اور متوازن سفارتی کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے پڑوسی اور برادر ملک پاکستان کے ساتھ مسلسل رابطے اور مشاورت کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔

دوطرفہ سرحد اور مستقبل کے سفارتی روابط

دونوں وزرائے خارجہ نے پاک ایران مشترکہ سرحد کو امن، دوستی اور باہمی تجارت کا محور بنانے اور سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے باہمی رابطہ کاری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے علاقائی امن کے لیے مستقبل میں بھی قریبی اور مسلسل رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔ بین الاقوامی سفارت کاری اور خارجہ پالیسی کی مصدقہ اپ ڈیٹس کے لیے پاک پلس کی اردو سروس اور قومی خبریں ملاحظہ فرمائیں۔