اسلام آباد — پاکستان اور سلطنت عمان نے دوطرفہ سفارتی، تجارتی اور دفاعی تعاون کو نئی بلندیوں پر لے جانے کے لیے تاریخی معاہدوں پر دستخط کر دیے ہیں، جن میں سفارتی و سرکاری پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری آمدورفت کا باہمی پروٹوکول، افرادی قوت کی نقل و حرکت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں اشتراک شامل ہے۔

اسلام آباد میں پاک عمان مشترکہ وزارتی کمیشن کا اجلاس

پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور سلطنت عمان کے وزیر خارجہ سید بدر بن حمد البوسعیدی نے وزارت خارجہ اسلام آباد میں پاک عمان مشترکہ وزارتی کمیشن (جے ایم سی) کے 8ویں اجلاس کی مشترکہ صدارت کی۔ تفصیلی وفود کی سطح پر ہونے والے مذاکرات کے بعد دونوں وزرائے خارجہ نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے بتایا کہ اجلاس کے دوران تجارت و سرمایہ کاری، زراعت، توانائی، بحری رابطوں اور ہنر مند پاکستانی افرادی قوت کی عمان منتقلی کے لیے خصوصی ورکنگ گروپس تشکیل دیے گئے ہیں۔

سعودی تنصیبات پر حوثی حملوں کی شدید مذمت

مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے برادر ملک سعودی عرب کے شہری علاقوں اور تنصیبات پر حوثی ڈرون و میزائل حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی۔ اسحاق ڈار نے افسوس کا اظہار کیا کہ ان حملوں کے نتیجے میں ایک پاکستانی شہری شہید جبکہ 5 زخمی ہوئے ہیں۔

نائب وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان مکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی علاقائی سالمیت اور حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے برادر ملک کے شانہ بشانہ کھڑا ہے اور کسی بھی بیرونی جارحیت کے خلاف سعودی خودمختاری کا دفاع اپنا فرض سمجھتا ہے۔

آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کا تحفظ

عمانی وزیر خارجہ سید بدر بن حمد البوسعیدی نے پاکستان کے ساتھ تاریخی برادرانہ تعلقات کو سراہتے ہوئے کہا کہ عمان میں مقیم پاکستانی کمیونٹی دونوں ممالک کے درمیان ایک مضبوط پل کا کردار ادا کر رہی ہے۔ دونوں وزرائے خارجہ نے خلیجی خطے اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی تجارتی راستوں خصوصاً آبنائے ہرمز اور باب المندب میں بلاتعطل اور محفوظ بحری جہاز رانی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

پاکستان کے بین الاقوامی سفارتی تعلقات اور خارجہ پالیسی کے تفصیلی تجزیوں کے لیے پاک پلس کی اردو سروس اور عالمی و قومی خبریں باقاعدگی سے وزٹ کریں۔