اسلام آباد — وفاقی حکومت نے آئندہ پندرہ روز کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے تحت پٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 3 روپے 63 پیسے کی نمایاں کمی کر دی گئی ہے جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 31 پیسے فی لیٹر کا معمولی اضافہ کیا گیا ہے۔

وزارت خزانہ کا نوٹیفکیشن اور نئی قیمتیں

وزارت خزانہ اور پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی سفارشات اور عالمی منڈی میں خام تیل کے نرخوں میں اتار چڑھاؤ کے تناظر میں قیمتوں کو ازسرنو مرتب کیا گیا ہے۔

نوٹیفکیشن کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 3.63 روپے کی کمی کے بعد 390.23 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے، جو اس سے قبل 393.86 روپے فی لیٹر فروخت ہو رہا تھا۔ دوسری جانب ہائی سپیڈ ڈیزل، جو ٹرانسپورٹیشن اور زرعی شعبے میں بنیادی ایندھن کے طور پر استعمال ہوتا ہے، کی قیمت 31 پیسے اضافے کے بعد 396.96 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔

لائٹ ڈیزل آئل اور مٹی کے تیل کے نرخ

حکومتی نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کے تیل (کیروسین آئل) اور لائٹ ڈیزل آئل (ایل ڈی او) کی قیمتوں میں بھی ردوبدل کیا گیا ہے۔ مٹی کے تیل کی قیمت میں 2 روپے 15 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے جس سے دیہی اور دور دراز علاقوں کے صارفین کو براہ راست ریلیف ملے گا، جبکہ لائٹ ڈیزل آئل کے نرخوں میں 1 روپیہ 40 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے۔

پٹرولیم ڈویژن کے حکام کا کہنا ہے کہ پٹرول کی قیمت میں کمی سے عام شہریوں، موٹر سائیکل سواروں اور نجی ٹرانسپورٹ صارفین کے ماہانہ اخراجات میں بہتری آئے گی، جبکہ حکومت نے پٹرولیم لیوی اور ٹیکسز کے مقررہ اہداف کو مستحکم رکھتے ہوئے عالمی مارکیٹ کے اثرات کو مقامی سطح پر منتقل کیا ہے۔

معاشی اثرات اور مارکیٹ ردعمل

معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق پٹرول کی قیمت میں کمی سے آئندہ ہفتوں میں اشیائے خورونوش اور روزمرہ مصنوعات کی مہنگائی کی شرح میں جزوی استحکام کی امید ہے، تاہم ڈیزل کی قیمت میں معمولی اضافے کی وجہ سے مال بردار گاڑیوں کے کرایوں پر مجموعی طور پر کوئی خاص منفی دباؤ نہیں پڑے گا۔

تمام آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ملک بھر کے پٹرول پمپس کو فوری طور پر نئی قیمتوں کا اطلاق یقینی بنانے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ ملکی معیشت اور توانائی کے شعبے کی لمحہ بہ لمحہ خبروں کے لیے پاک پلس کی اردو سروس اور قومی خبریں وزٹ کریں۔