تفتان / کوئٹہ — پاکستان نے بلوچستان میں پاک ایران سرحد پر واقع دو اہم ترین بین الاقوامی تجارتی گزرگاہوں تفتان اور گبد-ریمدان کے راستے تجارتی کارگو اور دوطرفہ نقل و حمل کو عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔ سیکیورٹی اداروں کی رپورٹس، سرحد پار نقل و حرکت کی سخت نگرانی اور اسمگلنگ کی روک تھام کے پیشِ نظر وفاقی وزارتِ تجارت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے نئی ہدایات جاری کی ہیں، جس کے بعد دونوں اطراف سیکڑوں مال بردار ٹرک اور کنٹینرز رک گئے ہیں۔

الیکٹرانک امپورٹ فارم (EIF) میں استثنیٰ کا خاتمہ اور سیکیورٹی پروٹوکولز

سرکاری ذرائع اور نوٹیفکیشنز کے مطابق وزارتِ تجارت نے ایران سے درآمدات کے لیے الیکٹرانک امپورٹ فارم (EIF) کی شرائط میں دی جانے والی عارضی رعایت کو منسوخ کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی تفتان میں امیگریشن اور تجارتی گیٹ پر معمول کی کسٹم کلیئرنس کو سیکیورٹی پروٹوکولز کے جامع جائزے تک عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔

ضلعی انتظامیہ اور سیکیورٹی حکام کے مطابق یہ اقدامات غیر قانونی سامان کی ترسیل روکنے، تجارتی شفافیت کو یقینی بنانے اور خطے میں انسدادِ دہشت گردی کے سیکیورٹی ایس او پیز کو سخت کرنے کے لیے کیے گئے ہیں تاکہ غیر دستاویزی اشیاء کی ترسیل پر قابو پایا جا سکے۔

ایل پی جی، تازہ پھلوں اور اشیائے خورونوش کے کنٹینرز پھنس گئے

تجارتی نقل و حرکت رکنے سے سرحد کے دونوں جانب ٹریفک کا شدید دباؤ پیدا ہو گیا ہے۔ خاص طور پر گبد-ریمدان کراسنگ پر، جو کہ پاکستان کے لیے مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی روزانہ درآمد کا ایک کلیدی ذریعہ ہے، ایل پی جی کے ٹینکرز اور تازہ پھلوں، کھجور اور چاول سے لدے ٹرالرز کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں۔

تاجروں کا کہنا ہے کہ ایل پی جی کی درآمد میں تعطل سے کراچی اور دیگر بڑے شہروں میں ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے اور گیس کی دستیابی کے مسائل جنم لے سکتے ہیں، جبکہ زرعی اجناس کے خراب ہونے کا بھی خدشہ ہے۔

کوئٹہ چیمبر آف کامرس کا ردعمل اور تہران اسلام آباد سفارتی رابطے

کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (QCCI) کے عہدیداران نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مقامی تاجروں کو نئی تجارتی بکنگز روکنے کا مشورہ دیا ہے اور وفاقی حکومت سے اپیل کی ہے کہ تجارتی و قانونی معاملات کو فوری بات چیت سے حل کیا جائے تاکہ سرحدی معیشت سے وابستہ تاجروں کو کروڑوں روپے کے ممکنہ نقصانات سے بچایا جا سکے۔

دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق سرحد پر بعض فنی اور احتیاطی اقدامات کی وجہ سے رکاوٹیں آئی ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے دونوں برادر ممالک کے متعلقہ حکام مسلسل رابطے میں ہیں۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ نئے سیکیورٹی فریم ورک کی تکمیل کے بعد تجارتی کاروانوں کو دوبارہ کلیئرنس دی جائے گی۔ قومی و علاقائی معیشت اور سرحدی امور کی بروقت خبروں کے لیے پاک پلس کی اردو سروس اور قومی خبریں ملاحظہ فرمائیں۔