اسلام آباد — پاکستان کی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں قومی اسمبلی اور سینیٹ نے خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت نافذ کی گئی ہنگامی حالت (ایمرجنسی) اور گورنر راج کے صدارتی اعلان کی کثرت رائے سے باضابطہ توثیق کر دی ہے۔ یہ منظوری ایسے وقت میں دی گئی ہے جب صوبے میں عسکریت پسندی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر وفاقی حکومت اور صوبائی قیادت کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہو چکے تھے۔
قومی اسمبلی اور سینیٹ میں قراردادوں کی منظوری
قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے آئین کے آرٹیکل 232 کی شق ایک کے دوسرے پرووائزو کے تحت قرارداد ایوان میں پیش کی۔ ایوان نے اپوزیشن کے زبردست شور شرابے اور نعرے بازی کے دوران قرارداد کثرت رائے سے منظور کر لی۔ بعد ازاں سینیٹ میں بھی اسی نوعیت کی قرارداد منظور کر لی گئی۔
یاد رہے کہ صدر مملکت آصف علی زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی کابینہ کی ایڈوائس پر خیبر پختونخوا میں آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی منظوری دی تھی، جس کے تحت صوبائی کابینہ معطل اور اختیارات گورنر کے سپرد کر دیے گئے تھے۔
وفاقی حکومت کا مؤقف اور سکیورٹی چیلنجز
ایوان میں بحث کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا میں ریاستی رٹ بحال کرنا ناگزیر ہو چکا تھا۔ وزراء نے مؤقف اختیار کیا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران صوبے میں دہشت گردی کے ہزاروں واقعات رونما ہوئے جن میں پولیس اور سکیورٹی فورسز کے درجنوں اہلکار شہید ہوئے، مگر صوبائی حکومت نے انسداد دہشت گردی کے قومی لائحہ عمل پر سنجیدگی سے عملدرآمد نہیں کیا۔
وفاقی وزراء نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کی جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین آئینی ذمہ داری ہے اور اس اقدام کا مقصد دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کا خاتمہ اور سکیورٹی اداروں کو مکمل قانونی تحفظ فراہم کرنا ہے۔
اپوزیشن کا شدید ردعمل اور پشاور ہائیکورٹ سے رجوع
پاکستان تحریک انصاف اور سنی اتحاد کونسل کے اراکین نے پارلیمنٹ میں شدید احتجاج کرتے ہوئے قراردادوں کی کاپیاں پھاڑ دیں اور ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ اپوزیشن نے وفاقی اقدام کو عوامی مینڈیٹ پر شب خون اور غیر آئینی قرار دیا۔ پی ٹی آئی نے اس صدارتی اعلان کو پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے جہاں آئینی پٹیشن زیر سماعت ہے۔
پاکستان کے تمام اہم سیاسی، قانونی اور دفاعی امور کی تازہ ترین کوریج کے لیے پاک پلس کی اردو سروس اور قومی خبریں باقاعدگی سے وزٹ کریں۔