پشاور — خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کی گنجان آباد دیر کالونی میں ایک نجی تعلیمی ادارے الخیر ایجوکیشن سسٹم کی چھت اچانک منہدم ہونے کے المناک سانحے میں 31 بچے اور ایک خاتون استاد جاں بحق ہو گئیں جبکہ درجنوں زخمی ہو گئے۔ اس دلخراش واقعے کے بعد خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے بھر کے تمام سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کا جامع سٹرکچرل سیفٹی آڈٹ کرنے کا ہنگامی حکم جاری کر دیا ہے۔
ریسکیو آپریشن اور ہسپتالوں میں ایمرجنسی
ریسکیو 1122 اور ضلعی انتظامیہ کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب صبح کی کلاسز جاری تھیں۔ اسکول کی پرانی اور خستہ حال عمارت کی چھت پر غیر قانونی طور پر اضافی تعمیرات کی جا رہی تھیں، جس کا بوجھ برداشت نہ کرتے ہوئے چھت یکدم نیچے کلاس رومز پر آ گری۔ ریسکیو 1122 کی درجنوں ایمبولینسز اور ہیوی مشینری نے فوری آپریشن کر کے ملبے سے لاشوں اور زخمیوں کو نکالا۔
لیڈی ریڈنگ ہسپتال (ایل آر ایچ) پشاور کے ترجمان کے مطابق ہسپتال میں فوری ایمرجنسی نافذ کر دی گئی جہاں زیر علاج متعدد بچوں کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔ جاں بحق ہونے والے زیادہ تر معصوم بچوں کی عمریں 6 سے 13 سال کے درمیان ہیں۔
ملزم گرفتار اور انکوائری کمیٹی کا قیام
پشاور پولیس نے واقعے کا فوری مقدمہ درج کرتے ہوئے اسکول کے مالک کو حراست میں لے لیا ہے جبکہ عمارت کے ٹھیکیدار کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں عمارت کے تعمیراتی میٹریل میں ناقص سیمنٹ، غیر معیاری سریا اور بلڈنگ بائی لاز کی کھلی خلاف ورزی کی نشاندہی کی گئی ہے۔
خیبر پختونخوا کے محکمہ تعلیم اور ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن نے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اور ضلعی تعلیمی افسران کو ہدایت کی ہے کہ وہ 26 اکتوبر تک صوبے کے تمام نجی و سرکاری اسکولوں کی عمارات کا تکنیکی اور سٹرکچرل آڈٹ مکمل کر کے تفصیلی رپورٹس پیش کریں۔ حفاظتی معیارات پر پورا نہ اترنے والے تعلیمی اداروں کو فوری طور پر سیل کر دیا جائے گا۔
قومی سوگ اور عالمی تعزیت
صدر مملکت، وزیراعظم اور قومی قیادت نے پشاور سانحے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے دلی تعزیت کی ہے اور واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کا یقین دلایا ہے۔ دوست ممالک خصوصاً سعودی عرب نے بھی اس المناک واقعے پر پاکستانی قوم اور لواحقین سے یکجہتی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان کی اہم خبروں اور پیشرفت کی مکمل کوریج کے لیے پاک پلس کی اردو سروس اور قومی خبریں ملاحظہ فرمائیں۔