برلن / اسلام آباد — پاکستان اور وفاقی جمہوریہ جرمنی کے درمیان دوستانہ اور سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کے تاریخی موقع پر صدر مملکت آصف علی زرداری اپنے جرمن ہم منصب فرینک والٹر اسٹائن مائر کی باضابطہ دعوت پر 22 سے 24 اکتوبر تک تین روزہ سرکاری دورے پر برلن پہنچ گئے ہیں۔ یہ گزشتہ 23 سال کے دوران کسی بھی پاکستانی سربراہ مملکت کا جرمنی کا پہلا باضابطہ سرکاری دورہ ہے۔

75 سالہ سفارتی شراکت داری اور اقتصادی ایجنڈا

دفتر خارجہ اسلام آباد کے مطابق صدر مملکت کے اس اہم دورے کا مقصد دونوں ممالک کے مابین کثیر الجہتی اقتصادی، تجارتی، سائنسی اور موسمیاتی شراکت داری کو نئی بلندیوں پر پہنچانا ہے۔ برلن میں صدر زرداری جرمن صدر فرینک والٹر اسٹائن مائر سے بیلویو پیلس میں باضابطہ ون آن ون اور وفود کی سطح پر ملاقاتیں کریں گے۔

مذاکرات میں پاکستان کے لیے یورپی یونین کی جی ایس پی پلس اسکیم کے تسلسل، دوطرفہ تجارتی حجم میں اضافے، جرمن کمپنیوں کی پاکستان میں گرین انرجی اور آئی ٹی کے شعبوں میں سرمایہ کاری، اور پاکستانی ہنرمند افرادی قوت کی جرمنی منتقلی کے معاہدوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

اعلیٰ سطحی وفد اور تجارتی فورمز سے خطاب

صدر زرداری کے ہمراہ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، اعلیٰ وفاقی حکام اور اقتصادی ماہرین پر مشتمل وفد جرمنی پہنچا ہے۔ اپنے دورے کے دوران صدر مملکت جرمن کاروباری رہنماؤں، چیمبرز آف کامرس اور معروف صنعتی شخصیات سے بھی خصوصی بات چیت کریں گے تاکہ قابل تجدید توانائی، زراعت اور انفراسٹرکچر میں جرمن سرمایہ کاری کو راغب کیا جا سکے۔

جرمنی یورپی یونین میں پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، جس کے ساتھ دوطرفہ تجارت کا حجم 4 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔ جرمنی میں مقیم پاکستانی تارکین وطن دونوں ممالک کے مابین عوامی اور تجارتی روابط کے فروغ میں کلیدی پل کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ خارجہ پالیسی اور بین الاقوامی امور کی تازہ ترین کوریج کے لیے پاک پلس کی اردو سروس اور قومی خبریں ملاحظہ فرمائیں۔