کراچی — اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی جانب سے 9 اکتوبر 2026 کو جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) کے دوران سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم (ترسیلات زر) 10.9 ارب ڈالر کی تاریخی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 14.74 فیصد زیادہ ہیں۔
مرکزی بینک کے مطابق ستمبر 2026 کے واحد مہینے میں 3.6 ارب ڈالر کی ترسیلات زر وصول ہوئیں، جو ستمبر 2025 کے 3.2 ارب ڈالر کے مقابلے میں 12.7 فیصد سالانہ اضافے کی عکاسی کرتی ہیں۔
ترسیلات زر بھیجنے والے سرکردہ ممالک
اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق ستمبر 2026 کے دوران سب سے زیادہ رقوم سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں نے بھیجیں، جن کا حجم 899.1 ملین ڈالر رہا۔
دیگر نمایاں ممالک کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
- متحدہ عرب امارات (یو اے ای): 748.5 ملین ڈالر کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔
- برطانیہ (یو کے): 515.1 ملین ڈالر کے ساتھ تیسرا سب سے بڑا ذریعہ رہا۔
- یورپی یونین ممالک: ترسیلات زر کا حجم 380 ملین ڈالر سے زائد رہا۔
- امریکا: سمندر پار پاکستانیوں نے 320 ملین ڈالر سے زائد رقوم ارسال کیں۔
زرمبادلہ کے ذخائر 26.8 ارب ڈالر کی سطح پر برقرار
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کے مطابق مسلسل مستحکم ترسیلات زر نے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط سہارا فراہم کیا ہے۔ 2 اکتوبر 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے اختتام پر اسٹیٹ بینک کے پاس موجود خالص زرمبادلہ کے ذخائر 21.454 ارب ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جبکہ کمرشل بینکوں کے ذخائر 5.344 ارب ڈالر رہے۔
اس طرح ملک کے مجموعی مائع زرمبادلہ کے ذخائر 26.798 ارب ڈالر کی مستحکم سطح پر پہنچ چکے ہیں، جس سے پاکستانی روپے کی قدر اور بیرونی ادائیگیوں کے توازن کو زبردست استحکام ملا ہے۔
قانونی بینکنگ ذرائع پر اعتماد کا ثبوت
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے قانونی اور رسمی بینکنگ چینلز کے ذریعے ترسیلات بھیجنے کے لیے دی جانے والی مراعات، ایکسچینج ریٹ کا استحکام اور ہنڈی و حوالہ کے خلاف مؤثر کریک ڈاؤن کے مثبت نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔ تارکین وطن کا اعتماد بحال ہونے سے معیشت کو پائیدار بنیادیں میسر آ رہی ہیں۔
پاکستان کی معیشت، کرنسی مارکیٹ اور فنانشل پالیسی کی مصدقہ رپورٹنگ کے لیے پاک پلس کی اردو سروس اور قومی معیشت سیکشن کا مطالعہ کریں۔