اسلام آباد — پاکستان کی عدالتی اور آئینی تاریخ میں ایک نئی روایت کا آغاز کرتے ہوئے پارلیمنٹ کی 12 رکنی خصوصی پارلیمانی کمیٹی نے دو تہائی اکثریت کے ساتھ سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر جج جسٹس یحییٰ آفریدی کو ملک کا 30واں چیف جسٹس نامزد کر دیا ہے۔ یہ تاریخی تقرر حال ہی میں نافذ العمل ہونے والی 26ویں آئینی ترمیم کے تحت تشکیل پانے والے نئے طریقہ کار کے ذریعے عمل میں لایا گیا ہے۔

خصوصی پارلیمانی کمیٹی کا ان کیمرہ اجلاس اور دو تہائی اکثریت

پارلیمنٹ ہاؤس کے کمیٹی روم میں منعقدہ بند کمرہ اجلاس کی صدارت میں حکومتی اتحاد اور اپوزیشن اراکین نے شرکت کی۔ کمیٹی کو وزارت قانون و انصاف کی جانب سے سپریم کورٹ کے تین سینئر ترین ججز جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر اور جسٹس یحییٰ آفریدی کے ناموں پر مشتمل پینل موصول ہوا تھا۔

کمیٹی کے کل 12 اراکین میں سے 9 ارکان نے اجلاس میں شرکت کی، جبکہ پاکستان تحریک انصاف اور سنی اتحاد کونسل کے اراکین نے کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔ اجلاس میں تفصیلی غور و خوض کے بعد موجود 9 میں سے 8 اراکین نے جسٹس یحییٰ آفریدی کی نامزدگی کے حق میں ووٹ دیا، جس سے آئین کے آرٹیکل 175 اے کے تحت درکار دو تہائی اکثریت کا تقاضا کامیابی سے پورا ہو گیا۔

آئینی تقاضے اور رسمی تقرری کا عمل

خصوصی پارلیمانی کمیٹی کے فیصلے کے فوری بعد نامزدگی کی باضابطہ سمری وزیر اعظم محمد شہباز شریف کو ارسال کر دی گئی ہے۔ آئینی ضوابط کے مطابق وزیر اعظم اس سفارش کی توثیق کر کے صدر مملکت آصف علی زرداری کو حتمی منظوری کے لیے بھجوائیں گے، جس کے بعد وزارت قانون و انصاف کی جانب سے باضابطہ گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔

جسٹس یحییٰ آفریدی موجودہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی 25 اکتوبر 2024 کو ریٹائرمنٹ کے بعد 26 اکتوبر کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔ 26ویں آئینی ترمیم کے تحت چیف جسٹس آف پاکستان کی مدتِ ملازمت زیادہ سے زیادہ 3 سال مقرر کی گئی ہے۔

جسٹس یحییٰ آفریدی کا عدالتی کیریئر

جسٹس یحییٰ آفریدی 23 جنوری 1965 کو ڈیرہ اسماعیل خان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ایچی سن کالج لاہور، گورنمنٹ کالج لاہور اور پنجاب یونیورسٹی لاء کالج سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد کیمبرج یونیورسٹی کے جیسس کالج سے قانون میں ماسٹرز (ایل ایل ایم) کی ڈگری مکمل کی۔

انہوں نے 1990 میں ہائی کورٹ اور 2004 میں سپریم کورٹ کے وکیل کے طور پر پریکٹس کا آغاز کیا۔ 2010 میں پشاور ہائی کورٹ کے ایڈیشنل جج مقرر ہوئے اور دسمبر 2016 میں پشاور ہائی کورٹ کے پہلے قبائلی چیف جسٹس بنے۔ 2018 میں انہیں سپریم کورٹ آف پاکستان کا جج تعینات کیا گیا، جہاں انہوں نے متعدد تاریخی آئینی، کارپوریٹ اور فوجداری فیصلوں میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ملکی سیاست اور قانونی پیش رفت کی باوثوق کوریج کے لیے پاک پلس کی اردو سروس اور قومی خبریں ملاحظہ فرمائیں۔