تہران — مشرق وسطیٰ اور وسیع تر خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی کے تناظر میں تہران میں پاکستان، ایران، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ایک تاریخی چار فریقی سیکیورٹی کانفرنس منعقد ہوئی ہے۔ اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں علاقائی امن کے تحفظ، بین الریاستی غلط فہمیوں کے ازالے اور بیرونی مداخلت کے بغیر ایک خود مختار علاقائی سیکیورٹی فریم ورک کے قیام پر تفصیلی اتفاق رائے پیدا ہوا ہے۔

چاروں برادر اسلامی ممالک کی اعلیٰ دفاعی قیادت کی شرکت

تہران میں منعقدہ اس اہم سیکیورٹی ڈائیلاگ کی میزبانی ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے کی، جس میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ عسکری و دفاعی وفود نے بھرپور شرکت کی۔ اجلاس کے دوران خطے میں ممکنہ جنگ کے پھیلاؤ، بحیرہ احمر کی صورتحال اور خلیجی خطے کی سمندری تجارتی گزرگاہوں کی حفاظت پر جامع تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس کے اختتام پر جاری کیے گئے مشترکہ اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ خطے کے چاروں بڑے مسلم ممالک نے مستقل اور بلا تعطل رابطوں کے طریقہ کار پر اتفاق کیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں براہ راست مشاورت کے ذریعے کشیدگی کو کم کیا جا سکے اور پرامن سفارتی راستے تلاش کیے جا سکیں۔

مشرق وسطیٰ میں ڈی ایسکلیشن اور خود مختار علاقائی سیکیورٹی فریم ورک

ایرانی حکام اور سیکیورٹی قیادت نے اجلاس کے نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ مغربی ایشیا اور مسلم دنیا کے مسائل کا حل خطے کی اپنی داخلی قیادت کے پاس ہے، نہ کہ بیرونی قوتوں کے ایجنڈوں میں۔ مذاکرات میں غزہ و لبنان کی بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال، سرحدی دہشت گردی اور تجارتی راستوں کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز پر بھی کھل کر بات چیت کی گئی۔

سعودی اور ترک وفود نے خطے میں تصادم کی روک تھام اور اقتصادی ترقی کے لیے باہمی اعتماد سازی کے اقدامات کو ناگزیر قرار دیا۔ چاروں ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ تنازعات کو عسکری محاذ آرائی کے بجائے بین الاقوامی قوانین اور خود مختاری کے احترام کے اصولوں کے تحت حل کیا جانا چاہیے۔

پاکستان کا کلیدی سفارتی کردار اور مستقبل کی حکمت عملی

تجزیہ کاروں کے مطابق تہران میں اس چار فریقی ڈائیلاگ کے انعقاد میں پاکستان کی متوازن اور اصولی سفارت کاری نے ایک پل کا کردار ادا کیا ہے۔ اسلام آباد نے ہمیشہ تہران اور ریاض کے درمیان خلیج کو پاٹنے اور امت مسلمہ کے باہمی اتحاد کے لیے سنجیدہ کوششیں کی ہیں۔

پاکستانی عسکری و سفارتی قیادت نے باور کرایا کہ خطے میں استحکام پاکستان کی قومی اور معاشی سلامتی سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔ چاروں برادر ممالک نے مستقبل میں وزرائے دفاع اور انٹیلی جنس سربراہان کی سطح پر باقاعدہ فالو اپ میٹنگز جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بین الاقوامی تعلقات اور علاقائی سفارت کاری کی تازہ ترین خبروں کے لیے پاک پلس کی اردو سروس اور عالمی خبریں ملاحظہ فرمائیں۔