نیویارک: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پاکستان کی موثر اور فعال سفارتی کوششوں کے نتیجے میں مسلح تنازعات کے دوران سفارتکاری کے تسلسل پر مبنی ایک تاریخی صدارتی اعلامیہ متفقہ طور پر منظور کر لیا ہے۔ اس اہم بین الاقوامی دستاویز میں دنیا بھر کے متحارب فریقین اور عالمی برادری پر زور دیا گیا ہے کہ جنگ اور مسلح کارروائیوں کے آغاز کے باوجود سفارتی رابطے، ثالثی اور مکالمے کا راستہ کسی صورت بند نہیں ہونا چاہیے۔

سفارتکاری کا دائرہ کار اور عالمی ترجیحات

سلامتی کونسل کی جانب سے منظور کیے جانے والے صدارتی اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ جدید دور کے پیچیدہ اور کثیر الجہتی تنازعات میں انسانی جانوں کے تحفظ، بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی اور جنگی تباہ کاریوں کو محدود رکھنے کے لیے سفارتی ذرائع کو ہمہ وقت فعال رکھنا ناگزیر ہے۔ دستاویز کے مطابق بین الاقوامی ثالثی، خیر سگالی کے مشن اور براہ راست یا بالواسطہ مذاکراتی چینلز اس وقت مزید اہمیت اختیار کر جاتے ہیں جب میدان جنگ میں عسکری جھڑپیں عروج پر ہوں۔

اعلامیے میں اس حقیقت کو تسلیم کیا گیا ہے کہ رابطوں کے مکمل تعطل سے نہ نہ صرف تنازعات کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر کشیدگی کے پھیلاؤ کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے تمام رکن ممالک کو باور کرایا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے باب ششم کے تحت تنازعات کے پرامن تصفیے کے اصولوں پر سختی سے کاربند رہیں۔

پاکستان کے مستقل مندوب اور وزارت خارجہ کا موقف

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر سید حیدر شاہ نے صدارتی اعلامیے کی منظوری کے بعد پریس بریفنگ کے دوران اس پیش رفت کو بین الاقوامی امن و سلامتی کی جانب ایک بڑا سنگ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اصولی موقف اپنایا ہے کہ جنگیں کبھی مسائل کا دیرپا حل ثابت نہیں ہو سکتیں اور آخر کار تمام فریقین کو سفارتی میز پر ہی آنا پڑتا ہے۔

پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے بھی سلامتی کونسل میں صدارتی اعلامیے کی متفقہ منظوری کا بھرپور خیر مقدم کیا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ پاکستان عالمی فورمز پر امن، سفارتکاری اور تعمیری مکالمے کے فروغ کے لیے اپنی تعمیری کاوشیں بلا تعطل جاری رکھے گا۔

سلامتی کونسل کی قرارداد 2788 کا تسلسل

سفارتی مبصرین کے مطابق یہ پیش رفت دراصل سلامتی کونسل کی اس تاریخی قرارداد 2788 کا منطقی تسلسل ہے جو پاکستان کی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی گئی تھی۔ اس وقت بھی پاکستان نے تنازعات کی روک تھام اور کثیر القومی سفارتکاری کو بین الاقوامی ایجنڈے کے مرکز میں لانے کے لیے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔

عالمی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ عالمی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے تناظر میں یہ دستاویز عالمی تنازعات کے خاتمے، جنگ بندی کے نفاذ اور غیر فوجی شہریوں کے محفوظ انخلا کے لیے سفارتی کوششوں کو قانونی اور اخلاقی بنیاد فراہم کرے گی۔ مزید تفصیلات اور تازہ ترین عالمی کوریج کے لیے پاک پلس 247 نیوز ڈیسک کے ساتھ رابطے میں رہیں۔