جنیوا / اسلام آباد — ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او) نے اپنی تازہ ترین "گلوبل ٹریڈ آؤٹ لک اپ ڈیٹ 2026" میں انکشاف کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ اور بحیرہ احمر میں بحری راستوں کی بندش اور ترسیلی راستوں کی ازسرنو ترتیب کے نتیجے میں پاکستان عالمی سمندری نقل و حمل کا اہم متبادل مرکز بن کر ابھرا ہے، جس کے تحت سال 2026 کے پہلے چھ ماہ میں پاکستان کی سمندری مال برداری (سی فریٹ) ٹرانسپورٹ سروسز کی برآمدات میں 73 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ڈبلیو ٹی او کے اعداد و شمار کے مطابق، کراچی کی بین الاقوامی کنٹینر ٹرمینلز پر بحری جہازوں کی آمد و رفت میں جولائی 2026 کے دوران سالانہ بنیادوں پر 14 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جو علاقائی تجارت میں پاکستان کے لاجسٹکس نیٹ ورک پر بڑھتے ہوئے بین الاقوامی انحصار کی واضح علامت ہے۔
عالمی تجارت کی شرح نمو کا تخمینہ 3.9 فیصد پر بحال
عالمی تجارتی ادارے نے سال 2026 کے لیے دنیا بھر میں اشیا کی تجارتی مالیت کی نمو کے تخمینے کو مارچ کے 1.9 فیصد سے بڑھا کر 3.9 فیصد اور سال 2027 کے لیے 4.1 فیصد کر دیا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے متعلق بنیادی ڈھانچے میں زبردست سرمایہ کاری اور عالمی سپلائی چینز کی موافقت نے تجارتی بحالی کو ممکن بنایا ہے۔
دوسری جانب تجارتی خدمات کی عالمی شرح نمو مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے سبب 4.8 فیصد سے کم ہو کر 3.3 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جس میں پاکستان جیسی معیشتوں نے لاجسٹکس سروسز فراہم کر کے خلا کو پر کیا ہے۔
کمپیوٹر و ڈیجیٹل سروسز کی برآمدات میں 23 فیصد اضافہ
رپورٹ کے مطابق پاکستان کے آئی ٹی اور کمپیوٹر سروسز سیکٹر نے بھی زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور سال 2026 کی دوسری سہ ماہی میں اس شعبے کی برآمدات میں 23 فیصد سالانہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
عالمی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جغرافیائی پوزیشن نے عالمی تجارتی کمپنیوں کو خلیج اور جنوبی ایشیا کے درمیان محفوظ تجارتی راہداری فراہم کی ہے، جس سے پاکستان کے پورٹ انفراسٹرکچر کی قدر میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔
چیلنجز اور پورٹ کنجشن سرچارجز
ڈبلیو ٹی او نے رپورٹ میں متنبہ بھی کیا ہے کہ جنوبی ایشیا کی بندرگاہوں پر ٹریفک کے دباؤ کے باعث تاخیر اور مال برداری کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔ متعدد بین الاقوامی شپنگ لائنز نے پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے لیے 500 ڈالر فی کنٹینر کا رش سرچارج نافذ کیا ہے، جس سے درآمدی اشیا پر افراط زر کا دباؤ بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
پاکستان کی معیشت، بندرگاہوں اور بین الاقوامی تجارت کی تازہ ترین صورتحال کے لیے پاک پلس کی اردو ویب سائٹ اور کاروبار و تجارت سیکشن سے باخبر رہیں۔