بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور پاکستان کے اقتصادی حکام کے درمیان 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے چوتھے جائزے اور لچک و پائیداری کی سہولت (آر ایس ایف) کے تیسرے جائزے پر اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ عملے کی سطح کے معاہدے کے بعد پاکستان کے لیے تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی نئی فنڈنگ کے حصول کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے معاشی ٹیم کے ہمراہ بریفنگ دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حکومت ملکی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے سخت مالیاتی نظم و ضبط اور ڈھانچہ جاتی اصلاحات پر مکمل کاربند ہے۔ فنڈ کے جائزے کے دوران پاکستان کے بنیادی مالیاتی سرپلس، بیرونی زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور جاری کھاتوں کے استحکام کو سراہا گیا ہے۔

ٹیکس نیٹ کی توسیع اور زرعی انکم ٹیکس کا نفاذ

وزیر خزانہ نے بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے سالانہ ٹیکس وصولی کے 15.2 کھرب روپے سے زائد کے ہدف کو پورا کرنے کے لیے اقدامات تیز کر دیے گئے ہیں۔ غیر دستاویزی معیشت کو باقاعدہ ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے ریٹیلرز اور تاجر برادری کی ڈیجیٹل مانیٹرنگ شروع کی جا رہی ہے، جبکہ صوبوں کے ساتھ مل کر زرعی آمدن پر ٹیکس کے نفاذ کے فریم ورک کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔

حکومت نے ٹیکس گوشوارے جمع نہ کروانے والے نان فائلرز کے مالیاتی لین دین پر پابندیوں اور اضافی فیسوں کے نفاذ کو مؤثر بنانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ملکی ریونیو میں حقیقی اضافہ ممکن ہو سکے۔

توانائی گردشی قرضے کا تدارک اور اداروں کی نجکاری

بریفنگ میں توانائی شعبے کے گردشی قرضے کے خاتمے کو ترجیحی ایجنڈا قرار دیا گیا۔ بجلی اور گیس کے شعبوں میں لاگت کے مطابق ٹیرف ایڈجسٹمنٹ اور بجلی چوری کے خلاف جاری مہم کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ وزیر خزانہ کے مطابق بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) اور ایئرپورٹ آپریشنز سمیت 5 سے 6 ریاستی اداروں کی نجکاری کے عمل کو رواں مالی سال کے دوران مکمل کر کے ایک ارب ڈالر سے زائد کے غیر ملکی وسائل حاصل کیے جائیں گے۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام پر بروقت عملدرآمد اور عالمی مالیاتی اداروں کے اعتماد سے ملک میں افراط زر کی شرح میں بتدریج کمی اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں، جو خطے کی وسیع تر قومی اور بین الاقوامی پیش رفت کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔