شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے کونسل آف ہیڈز آف گورنمنٹ کے تاریخی سربراہی اجلاس کی میزبانی کے لیے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ وفاقی وزارت داخلہ نے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت پاک فوج کے دستوں کو سول انتظامیہ کی مدد اور حساس تنصیبات کے تحفظ کے لیے تعینات کر دیا ہے۔

سربراہی کانفرنس کے دوران چین، روس، بیلاروس، قازقستان، ازبکستان، تاجکستان اور کرغزستان کے وزرائے اعظم سمیت غیر ملکی اعلیٰ سطحی وفود کی شرکت متوقع ہے۔ بین الاقوامی معززین کی حفاظت اور اجلاس کے پرامن انعقاد کے لیے ریڈ زون، ڈپلومیٹک انکلیو، جناح کنونشن سینٹر اور اسلام آباد ایئرپورٹ کے اطراف کثیر الجہتی سکیورٹی کارڈن قائم کیے گئے ہیں۔

شہر کے داخلی راستوں پر سخت چیکنگ اور ٹریفک پلان

اسلام آباد پولیس اور رینجرز کی مشترکہ ٹیموں نے جڑواں شہروں کے تمام داخلی و خارجی راستوں پر کڑی نگرانی شروع کر دی ہے۔ دارالحکومت کے اہم داخلی راستوں پر ناکے لگا کر گاڑیوں کی جامع تلاشی لی جا رہی ہے، جبکہ شہریوں کی سہولت کے لیے اسلام آباد ٹریفک پولیس نے متبادل روٹس پر مشتمل خصوصی ٹریفک پلان جاری کیا ہے۔

حکومت نے سربراہی اجلاس کے ایام میں وفاقی دارالحکومت اور راولپنڈی کے مخصوص سرکاری و نجی اداروں میں عام تعطیلات کا اعلان کیا ہے تاکہ غیر ملکی وفود کے روٹس پر ٹریفک کی روانی متاثر نہ ہو اور شہریوں کو غیر ضروری دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ملکی سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں چوکسی

یہ سکیورٹی اقدامات ایسے وقت میں کیے جا رہے ہیں جب ملک میں مجموعی سیاسی اور سکیورٹی درجہ حرارت بلند ہے، اور خیبر پختونخوا میں حالیہ ہنگامی صورتحال کے بعد وفاقی ایجنسیاں مکمل الرٹ پر ہیں۔ ملک بھر کی تمام حساس تنصیبات اور اہم مواصلاتی رابطوں کی نگرانی کو مصنوعی ذہانت سے لیس سیف سٹی کیمروں اور فضائی نگرانی کے نظام سے جوڑ دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے متعلقہ آئینی اور سکیورٹی پیش رفت کو بھی مانیٹر کیا جا رہا ہے۔

دفتر خارجہ کے حکام کے مطابق پاکستان ایک دہائی کے بعد خطے کی سب سے بڑی کثیر الجہتی اقتصادی اور سفارتی تنظیم کے سربراہی اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے، جسے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے سفارتی تشخص اور تجارتی روابط کے فروغ کے لیے ایک سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔